ہمارے معاشرے میں بچے کا نام
ہمارے معاشرے میں بچے کا نام رکھنے پر کبھی پھڈے تو کبھی ریس لگی ہوتی ہے۔ پھر جو جیت جائے اسکی منشا کا نام رکھا جاتا ہے
اور وہ نام ہوتا ہے "سنیں"۔ اس نام میں احکام محذوف ہوتے ہیں سنیں کہتے ہی وہ سسٹم آن ہونا ہوتا ہے کہ سن لیا ہے تو اب عمل بھی فرمائیے ۔
اور اگر کہا جاتا ہے منے کے ابا تو یہ ان کہا پیغام ہوتا ہے کہ منے کو سنبھالنا آپکی بھی ذمہ داری ہے۔
اور اگر نند/دیور جیٹھ سے بات کرتے وقت کہا جائے آپکے بھائ، تو اس میں پیغام چھپا ہوتا ہے کہ رشتے میں تو اب بھی آپکے بھائ ہی ہیں، لیکن تمام حقوق بحق سرکار ضبط کر لئے گئے ہیں۔
اب یہ مطلب ہرگز نہیں لینا کہ جو کہتا ہے وہی ہوتا ہے
یہ بس ایسے ہی روشنی ڈالی ہے۔
فرح رضوان۔
Comments
Post a Comment